23 مارچ 2012 - 19:30

بلقرن یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والی طالبات پر آل سعود کی فورسز کے حملے میں 13 طالبات کا دم گھٹ گیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  18 مارچ کو بلقرن یونیوسٹی کی طالبات نے سعودی عرب کی دوسری یونیورسٹیوں میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں کے موقع پر احتجاجی دھرنا دیا اور سعودی فورسز نے ـ جو سعودی ذرائع کے مطابق سعودی مذہبی پولیس کے اہکاروں پر مشتمل تھیں ـ ان پر حملہ کیا۔بلقرن یونیورسٹی کی طالبات ملک خالد یونیورسٹی کی طالبات پر فورسز کے حملے میں ایک طالبہ کی ہلاکت اور طالبات کے مطالبات کو آل سعود کی جانب سے لائق اعتنا نہ سمجھنے کی پالیسی پر احتجاج کررہی تھیں۔

سعودی ذرائع نے بتایا کہ بلقرن یونیورسٹی میں طالبات پر حملہ بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (وہابی مذہبی پولیس) کا کام تھا جس میں 13 لڑکیوں کو سانس کی تکلیف ہوئی دوہفتے قبل ابہا شہر میں ابہا یونیورسٹی کی طالبات پر مذہبی پولیس کے حملے کے بعد پورے ملک میں پابندیوں کے باوجود پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہيں اور مشرقی علاقوں کے عوام آل سعود کے خلاف احتجاج میں مزید تنہا نہیں رہے ہیں اور پورے ملک کے عوام آل سعود کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر متفق نظر آنے لگے ہیں چنانچہ آل سعود نے طلبہ و طالبات کے احتجاج کو غیر سیاسی قرار دینے پر اصرار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گویا انہيں جامعات کی انتظامیہ سے شکایت ہے اور سعودی عرب کے بادشاہ طلبہ کے احتجاج کے خاتمے کے لئے وزراء۔ جامعات کے سربراہان اور وزير تعلیم تک کی قربانی دینے نیز طلبہ کو نقد رشوت دیتے تک کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔

آل سعود کے بادشاہ نے طلبہ کو انقلابی تحریک سے جدا کرنے کے لئے اپنے سے اقدامات بھی کئے ہیں جن میں ملک خالد یونیورسٹی کے سانحے جائزہ لینے کے لئے "بحران کمیٹی" کی تشکیل بھی شامل ہے۔ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا ہے کہ جامعات میں تناؤ کی ذمہ داری وزیر تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔عبداللہ نے ہدایت کی ہے کہ طلبہ کا احتجاج ہر ممکن قیمت پر ختم ہونا چاہئے اور اگر طلبہ و طالبات چاہیں تو حکومت کو انہیں منہ مانگی رقوم دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ (رشوت اور خادم الـــ ...!؟)حفظ ما تقدم کے لئے بھی رشوت طلبہ کو رشوت دینے کے سلسلے میں آل سعود کے بادشاہ کے احکامات پر عمل در آمد کرتے ہوئے ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں کھانے کی قیمت 50فیصد کم کرکے 20 سعودی ریال سے 10 سعودی ریال تک گھٹا دی ہے۔

یاد رہے کہ آل سعود نے ملک عبدالعزيز یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کو پیشگی مراعاتیں دینے کا سلسلہ اس لئے شروع کررکھا ہے کہ یہ یونیورسٹی بظاہر ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس میں صرف اساتذہ کی تعداد 4 ہزار اور طلبہ و طالبات کی تعداد 82 ہزار ہے اور آل سعود کے حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر طلبہ کی احتجاجی تحریک کی لہر اس یونیورسٹی تک پہنچے تو سعودی حکومت کو عظیم ترین سیکورٹی چلینچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔........

/169-110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلاد الحرمین میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں ميں اضافہ